مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے فوج کے ایک جنگی حملہ آور ڈرونز کی تیاری کے مرکز کے دورے کے موقع پر فوج کی موجودہ تیاریوں کی سطح، اس کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں میں اہم تجربات حاصل ہوئے ہیں۔ ان تجربات میں سے ایک یہ ہے کہ اس دشمن پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور اپنی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔
فوج کے کمانڈر انچیف نے آج کی جنگوں میں بغیر پائلٹ ہتھیاروں کے کردار کے بارے میں کہا کہ آج ڈرونز، بغیر پائلٹ بحری جہازوں اور چھوٹے پرواز کرنے والے آلات سمیت بغیر پائلٹ ہتھیار مختلف نوعیت کے مشنوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ استعمال ہو رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کو اسلامی ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
میجر جنرل حاتمی نے فوج کی جانب سے استعمال ہونے والے ڈرونز، بالخصوص آرش ڈرونز کی تیاری کی حکمتِ عملی کے بارے میں کہا کہ یہ عمل وزارتِ دفاع کے تعاون سے شروع ہوا اور دونوں اداروں کے درمیان ایک بڑے مفاہمتی معاہدے میں تبدیل ہو گیا۔ آج مضبوط بنیادی ڈھانچے اور ماہرین، جامعات اور علم پر مبنی کمپنیوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کام صنعتی پیمانے پر انجام دیا جا رہا ہے۔ آج غیرمتوازن جنگ میں بھرپور قوت کے ساتھ حصہ لینے کے لیے فوج کے سازوسامان کا ایک اہم حصہ انہی ڈرونز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف نے مزید کہا کہ آج ہم ان ہتھیاروں کی تیاری، تقسیم اور دیکھ بھال کے شعبوں میں خصوصی طور پر سرگرم ہیں۔ اسی کے ساتھ جوانوں کو ان ہتھیاروں کے استعمال کی ضروری تربیت بھی دی گئی ہے اور وہ بہت اچھی مہارت رکھتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈرونز اور مجموعی طور پر بغیر پائلٹ نظاموں کے شعبے میں اچھی پختگی حاصل کر چکے ہیں۔
میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ حالیہ جنگوں میں ہمارے بعض سازوسامان اور مقامات کو نقصان پہنچا، لیکن دشمن کا خیال تھا کہ ہم متوازن اور غیرمتوازن جنگ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بعض سازوسامان ماضی میں بھی متوازن جنگ کے لیے مخصوص تھے اور اب بھی ہیں، لیکن ہمارے سازوسامان اور وسائل کا ایک بڑا حصہ غیرمتوازن جنگ سے متعلق ہے۔ غیرمتوازن جنگ کے لیے مخصوص نوعیت کی تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کی ہے اور اس کے لیے خود کو تیار بھی کر لیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف نے فوج کی چاروں شاخوں کی مکمل تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ غیرمتوازن جنگ میں ہم نے ایسے سازوسامان کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا کہ وہ حیران رہ گیا، کیونکہ اسے بہت سخت ضربیں برداشت کرنا پڑیں۔ ہم نے دشمن کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے اور جانتے ہیں کہ اس کے پاس قابلِ ذکر صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے خود کو غیرمتوازن جنگ اور اس کے لیے درکار سازوسامان کے ساتھ تیار کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج غیرمتوازن جنگ کے لیے درکار سازوسامان کے حوالے سے ہم مقداری اور معیاری، دونوں اعتبار سے بہتر صورتِ حال میں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کس طریقے سے کارروائی کرے گا اور ہم نے ان ہی مقامات اور راستوں سے جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے جنہیں وہ استعمال کرتا ہے۔ ہم ایرانی عزیز عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اچھی صورتِ حال میں ہیں۔ فوج کے جوانوں کا حوصلہ بہت بلند ہے اور وہ درکار سازوسامان کی تیاری میں مصروف ہیں۔
میجر جنرل حاتمی نے مستقبل اور ممکنہ واقعات کے بارے میں کہا کہ مسلح افواج، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بنیادی ذمہ داری ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا اور خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے فرمان کے مطابق، ہم ایک فیصد خطرے کو بھی سو فیصد خطرہ تصور کرتے ہیں اور اس کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ آج ہمارا دشمن بھی ایسا ہے جس پر سو فیصد اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور وہ طاقت و قوت کی زبان کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتا۔ وہ کسی بھی نرمی کو پسپائی سمجھتا ہے اور ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔
میجر جنرل حاتمی نے آبنائے ہرمز کے مشرق میں فوج کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں ایرانی فوج کی بحریہ کی ذمہ داریوں کے دائرے میں ہماری سمندر اور ساحل پر نمایاں موجودگی ہے۔ یہ موجودگی مؤثر ہے اور ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ دشمن کو بحیرۂ عمان میں داخل ہونے کی جرأت نہیں ہوئی، کیونکہ دشمن اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ اس علاقے میں ایک طاقتور قوت امور پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر دشمن کا کوئی بحری جہاز اس علاقے میں داخل ہوا تو یقیناً اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ ہم بحری ناکہ بندی کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور ناکہ بندی نافذ کرنے والے کو دشمن تصور کرتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں آمدورفت کے حوالے سے اعلان کردہ ضوابط اور قوانین کی یاد دہانی کرواتے ہوئے فوج کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ ان ضوابط پر عمل درآمد کے لیے مختلف سازوسامان استعمال کیے گئے ہیں، جن میں بحری بارودی سرنگیں اور خودکار کنٹرول کے بعض نظام شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ مختلف ممالک مجرم امریکیوں کی جانب سے عائد کردہ صورتِ حال کو سمجھیں اور خود کو نقصان سے بچانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھیں۔
آپ کا تبصرہ